افغانستان میں مقدس جہاد سے لیکر مقدس دہشت گردی تک | Holy War to Holy Terror in Afghanistan | Kathy Gannon K L Gabba

Regular price $ 350.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

افغانستان میں مقدس جہاد سے لیکر مقدس دہشت گردی تک | Holy War to Holy Terror in Afghanistan | Kathy Gannon K L Gabba11 I is for Infidel: From Holy War to Holy Terror in Afghanistan 18 Year Inside Afghanistan Book By Kathy Gannon

The Idiot (serialized from 1868 to 1869)

Book Details ISBN 978-969-8455-22-4 No

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ میرا بائی کو کہندی ادبیات میں ایک عظیم شاعرہ کہنے اور سمجھنے کے با وجود اس کی حیات میں غیر واضح موڑ اور نشیب و فراز پائے جاتے ہیں ۔ سوائے چند محققین کے اکثریتی مضمون نگاروں نے نہ صرف رنگین بیانی اور مرصع نگاری سے کام لیا ہے بلکہ تاریخی حقائق کو سہوا یا ارادہ مسنخ کرتے ہوئے میرا بائی کی زندگی کو انشا پردازی اور عقیدت کی بھول بھلیوں میں گم کر دیا ہے۔

شگفتہ گم لودھی نے بیک وقت اردو، پنجابی اور انگریزی ادب کے میدان میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا ہے ۔ اُن کے ادبی سفر کی ابتدا ان کے والد سلیم خان گلی کے زیر سایہ ہوئی جنھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اُن کی والدہ نے بھی اُن کی ادبی دلچسپیوں میں بھر پور تعاون کیا۔ شگفتہ لودھی نے اردو، پنجابی اور انگریزی زبانوں میں تقریباً دس کتا بیں لکھ کر ان زبانوں کے ادب کو مالا مال کیا ہے۔ انھوں نے اپنی پہلی کتاب سے ہی ادبی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ اُن کی تخلیقی صلاحیتیں، منفرد اسلوب اور فکر انگیز موضوعات نے انھیں قارئین اور ناقدین میں یکساں مقبول بنا دیا ہے۔ اُن کی کتب میں افسانے ، ناول ( زیر طبع ) ، شاعری اور تحقیق شامل ہیں ۔ شگفتہ لودھی کی تحقیقاتی کتب نے اردو ادب کے سنجیدہ قارئین اور محققین کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ اُن کے تحقیقی کام میں مواد کی گہرائی، تجزیاتی صلاحیت اور علمی معیار کی بلندی شامل ہے۔ ان کی تحقیقاتی کتب نے نہ صرف ادبی حلقوں میں بلکہ جامعات میں بھی قابل قدر مقام حاصل کیا ہے۔

and blasphemy and its prescribed punishment in the light of Quran

Book Name: Falsafian Islam

Akhri Chattan /Naseem Hijazi

of Pages 112 Format Hardcover Publishing Date 2015 Language Urdu زیرنظر کتاب ”دھرتی جائے، کیوں پرائے“ اعظم معراج کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اس تلخ حقیقت کے بیان میں سچی کہانیاں رقم کی ہیں کہ دھرتی کے بیٹے اپنے معاشرے اور دھرتی سے بیگانہ کیوں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے اےسے تلخ اور حقےقت پر مبنی کرداروں کو قلم بند کیا ہے جو اس دھرتی کے اصل باسی تھے مگر انہیں شودر بناکر باقاعدہ منصوبہ بندی سے ان کے ذہنوں مےں احساسِ کمتری بھر دیا گیا۔ ےہ ظلم و ستم سہنے والے آج بھی اس ترقی اور تہذےب کے دور مےں بھی اپنی ہی دھرتی پر کہےں شودر کہےں سانسی کہےں گگڑا کہےںمصلی کہےں ٹپری واس، بھنگی اور چوڑھے چمار جےسے حقارت آمےز القابات کے ساتھ زندگےاں گزار رہے ہےں ۔ وہ جن کے آباﺅ اجداد نے انگرےز فاتحین کے ساتھ آنے والے مشنریوں کے ذرےعے مسیحیت کی تعلےمات سے متاثر ہو کر مسیحیت قبول کی اور مٹی کے بےٹے ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی ہند قےام پاکستان ، تحرےک پاکستان اور دفاع پاکستان مےں اپنے مسلمان بھائےوںکے شانہ بشانہ قےام پاکستان سے لے کر آج تک جہاں ضرورت پڑی اپنی جانوں کے نذرانے بھی پےش کےے اورہر شعبہ زندگی مےں شامل ہو کر اپنے وطن کی تعمےر و ترقی مےں حصہ لےا۔ کتاب کو تےن حصوں مےں لکھا گیا ہے ےعنی پہلا حصہ مٹی کے ان بےٹوں کے موجودہ روےوں کی سچی کہانےاں ،دوسرے حصے مےں مٹی سے ان کی نسبت آزادی ہند قےام پاکستان ، تحرےک پاکستان مےں ان کا حصہ جب کہ تےسرے حصے مےں دفاع پاکستان مےں ان کے کردار اور شہادتوں کی اےمان افروز داستا نیں شامل ہیں۔

and an opportunity to study the coloniser’s mind as he set about reorganizing the economic and social life of this ancient city

Private Property and the State کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب دنیا کی اُن کتابوں میں شمار کی جاتی ہے جنہوں نے انسانی تاریخ کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کر کے سماج کے اہم ترین اداروں خاندان سے ریاست تک کے سفر کا لازوال تجزیہ پیش کیا ہے۔یہ اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے جس کے مطالعے کے بعد یہ آگاہی حاصل ہوتی ہے کہ سماج میں ملکیت کے یہ ادارے کیسے پروان چڑھے۔ فریڈرک اینگلز، مارکسزم کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے تاریخ کے جدلیاتی عمل کے ذریعے اِن سماجی اداروں کے پہلوؤں پرجن حقائق کو پیش کیا ہے،ان کے بعد یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ آج کا عالمی سرمایہ داری نظام کن تضادات کا شکار ہے۔ یہ مارکسزم کی ہی خوبی ہے کہ وہ سماج کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، اسی لیے اس کتاب کی افادیت ہر روز بڑھتی جارہی ہے۔

"کوئی بستی یا امت ایسی نہیں جس میں ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو، ہر امت (قوم) کے لئے رسول ہے" (یونس ٤٧)

Category: General Book

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your افغانستان میں مقدس جہاد سے لیکر مقدس دہشت گردی تک | Holy War to Holy Terror in Afghanistan | Kathy Gannon K L Gabba orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your افغانستان میں مقدس جہاد سے لیکر مقدس دہشت گردی تک | Holy War to Holy Terror in Afghanistan | Kathy Gannon K L Gabba ships.

Need Help?
Questions about افغانستان میں مقدس جہاد سے لیکر مقدس دہشت گردی تک | Holy War to Holy Terror in Afghanistan | Kathy Gannon K L Gabba, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for افغانستان میں مقدس جہاد سے لیکر مقدس دہشت گردی تک | Holy War to Holy Terror in Afghanistan | Kathy Gannon K L Gabba in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>