Gorish Nayyad Buray Admi K Khatot برے آدمی کے خطوط 55%" " " Pages 280
CANADA And The Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah
سامراج اور پاکستان
عمر ریوا بیلا ترجمہ: آصف فرخی
A wing of Pakistan was severed while we were busy spinning "conspiracy theories"
میرسو پر مقدمہ قتل کی بنا پر چلایا گیا ہے۔ اس نے ایک عرب شخص کو گولی مار کر مارڈالا۔ اور پھر پتا نہیں کیا اسکے دماغ میں سوجھی کہ مارنے کے بعد بھی چار اور گولیاں اسکی لاش پر چلادیں۔ معاملہ جیل اور کورٹ تک پہنچا تو وہاں قتل کیس کا تعلق میرسو کے ماضی سے بھی جوڑا گیا۔
مصنف نے 1857 کے بعد مسلمانوں کے سیاسی ، معاشی ، مذہبی حالات، انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ اور تحریک خلافت کے قیام ، مسلم لیگ ، تحریک خلافت اور دیگر مسلم رہنماؤں کی جانب سے ہندو مسلم اتحاد کی اتنہائی کوششیں اور ان کی ناکامی، اور اسی دور میں ہندوستان کے مسلمانوں کی جانب سے موہن کا کرم چند گاندھی کو ہندوستان کی سیاست میں ہندوستان کا اہم رہنما بنانے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا اہم باب ہے ۔
پروفیسر موری کہتا ہے "مچ۔۔۔
چند ماہ قبل ہیڈمرالہ کے مقام پر کراس روٹ کلب کے زیر اہتمام سیاحت کے ستاروں کا میلہ سجایا گیا ۔۔۔۔ پاکستان بھر سے سیاح ، ادیب اور فوٹوگرافرز نے شرکت کی
اگر آپ کے پاس مصنف کی دیگر کتابوں کو پڑھنے کے لیے وقت نہیں ہے، جو زیادہ موٹی ہیں، تو اس کتاب کو ضرور پڑھیں، یوول نوح ہراری کا قلم جادوئی ہے اور یہ کتاب پڑھنے میں آسان، مختصر ہے۔اس کتاب کا پہلا باب پیسہ کی تاریخ اور کریڈٹ کے تصور سے متعلق ہے۔ دوسرے باب میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ سرمایہ دار کیا کہہ رہے ہیں اور وہ کس طرح مختصر وقت میں اشرافیہ اور حکمرانوں کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے۔ تیسرا باب مصنف کی مستقبل پر نظر ہے۔ ہراری کا خیال ہے کہ عوام کی اہمیت کم ہو رہی ہے اور مستقبل میں اشرافیہ کا ایک نیا طبقہ (سپر ہیومن) اقتدار پر قبضہ کرے گا اور معاشرے کو آگے بڑھائے گا۔ سپر انٹیلیجنٹ الگورتھم جو انسانوں کو ان سے بہتر جانتے ہیں وہ مستقبل کی دنیا میں اہم فیصلہ ساز بھی بن جائیں گے (کیونکہ ان الگورتھم کے بہت سے پروٹو ٹائپ پہلے ہی کچھ ملازمتوں میں انسانوں کی جگہ لے چکے ہیں)۔
ڈاکٹر جواز جعفری کے تخلیقی ہنر سے اردو نظم میں ایک وجدانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ جس سے شاعر کے خیالات کی وسعت کا پھیلاؤ زمان و مکاں کی حدود سے ماورا ہو کر زمانوں تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔ ان نظموں کے پس منظر میں ایک متحرک تصویری منظر نامہ رواں ہے جو دراصل انسانی زندگی کا رزمیہ ہے۔ جواز جعفری کے ہاں اپنی بات کو مؤثر اور بھر پور انداز میں بھر پور تاثر اور فکری معنویت پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی شاعری کی قرآت انسانی حواس پر سحرناک اثرات مرتب کرتی چلی جاتی ہے۔ یہی اعلیٰ شاعری کی وہ خصوصیت ہے جو اسے فرد کی داستاں سے ایک اجتماعی انسانی داستاں بنا کر آفاقی قدروں سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ حیرت ، استعجاب اور سوال کرنے کی
یوں ہوا جیسے ہو سسکی کوئی سناٹے میں
ناول میں عشق کی بے قراری، ہجر کی اذیت، اور وصال کی روحانی کیفیت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو ان جذبات میں ڈوبا ہوا پاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف جذباتی نہیں ہر منظر ، ہر مکالمہ ، ہر کیفیت ایک فلسفیانہ پس منظر رکھتی ہے۔ یہاں پر یوگ، کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔